ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / مسلم پرسنل لاء میں کسی بھی قسم کی تبدیلی ناقابل قبول ؛ مسلم خواتین شریعت اسلامی میں محفوظ اور مطمئن!

مسلم پرسنل لاء میں کسی بھی قسم کی تبدیلی ناقابل قبول ؛ مسلم خواتین شریعت اسلامی میں محفوظ اور مطمئن!

Sat, 03 Sep 2016 01:04:01    S.O. News Service

بھوپال:2/ستمبر(ایس او نیوز) ڈاکٹر اسماء زہرہ رکن مجلس عاملہ آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ نے روندرا بھون، بھوپال میں منعقدہ پریس کانفرنس کو مخاطب کرتے ہوئے بتایا کہ ہندوستان کی خصوصیت یہ ہیکہ یہ مختلف مذاہب، طبقات اور زبان بولنے والوں کا ملک ہے۔ملک میں مختلف مذہبی،لسانی اکائیوں اور قبائل کو مذہبی اور انکے پرسنل لاء پر عمل کرنے کی دستوری آزادی دی گئی ہے۔ اسلام کے عائلی قوانین کی بنیاد قرآن و حدیث کے احکامات پر مشتمل ہے۔ اسلامی شرعی قوانین بہت وسیع اورگہرے عملی پہلو رکھتے ہیں۔

انہوں نے پریس کانفرنس میں بتایا کہ اسلام میں سب سے زیادہ ناپسندیدہ کوئی عمل ہے تو وہ طلاق ہے۔ ہر مذہب اور کمیونٹی میں طلاق کے اپنے قوانین ہیں۔ جس کے مطابق شوہر اور بیوی آپس میں تفریق حاصل کرسکتے ہیں۔ ہر طبقے میں عورتیں کچھ نہ کچھ مسائل کا شکار ہیں۔ اس طرح ہندو، سکھ، جین، عیسائی مذاہب کے ماننے والوں میں بھی ازدواجی معاملات میں کہیں نہ کہیں تنازعات پائے جاتے ہیں۔ 

انہوں نے میڈیا کے اس پروپگنڈہ کو سراسر غلط بیانی پر مبنی قرار دیا کہ مسلم سماج میں طلاق کی شرح زیادہ ہے یا مسلم عورتیں طلاق کی وجہ سے پریشان حال ہیں۔انہوں نے کہا کہ تین طلاق کے مسئلے کواصل واقعہ سے ہٹاکر بڑھا چڑھا کر مسلمانوں کو بدنام کرنے کیلئے مسلسل میڈیا میں پیش کیا جارہاہے۔

ایک اخباری رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ عالمی سطح پرہندوستانی سماج میں طلاق کی شرح بہت کم ہے۔ 1000 شادی شدہ جوڑوں میں صرف 13 طلاقیں ہوتیں ہیں۔ جبکہ امریکہ میں 1000 شادی شدہ جوڑوں میں 500 طلاقیں ہوتیں ہیں۔ ہندوستان میں مرکزی حکومت یا ریاستی حکومت کے تحت طلاق و خلع کا کوئی رجسٹری محکمہ یا ادارہ نہیں ہے۔ گذشتہ 5 سالوں یعنی 2010  سے لیکر2014 تک ہندوستان کے شہر ی علاقوں میں طلاق کے کیسس میں 350 فیصد تک اضافہ ہوا ہے۔ جس میں ممبئی، کولکتہ، دہلی، لکھنو، بنگلور کے اعداد و شمار پیش کئے گئے۔ 

 مسلمانوں میں 97 فیصد  سے زیادہ شادی شدہ خاندان ہنسی خوشی اور کامیاب زندگی گذار رہے ہیں اور مسلمان عورتیں مسلم پرسنل لاء و شرعی عائلی قوانین سے بنا کسی زور و زبردستی کے مطمئن اور خوش ہیں۔ زوجین ایک دوسرے کے حقوق و ذمہ داریوں سے اچھی طرح واقف ہیں۔ آپسی شدید اختلافات اور تنازعات کی صورت میں ہر ایک کو طلاق اور خلع کا اختیار آزادانہ طور پر علیحدہ ہونے کیلئے دیا گیا ہے۔ شرعی قوانین میں ظلم و زیادتی سے کسی عورت کو نکاح میں باندھ کر رکھا نہیں جاسکتا اور اسی طرح کسی ناپسندیدہ بیوی کو زندگی بھر لٹکا کر رکھانہیں جاسکتاہے۔ آزادانہ خوشحال زندگی کیلئے شریعت نے ہر دو کو نجی آزادی دے رکھی ہے۔ 

انھوں نے کہا کہ حالیہ عرصہ میں اخبارات میں کچھ آرٹیکلس چھپے ہیں جس میں سنہ 2011 کے اعداد و شمار کو توڑ مروڑ کر پیش کیا گیا ہے اور یہ تأثر دینے کی کوشش کی گئی کہ مسلمانوں میں طلاق کا فیصد بہت زیادہ ہے۔ حقیقت یہ ہیکہ طلاق کا فیصد مسلمانوں میں بہت کم ہے اور مسلمانوں میں علیحدگی اور متروک کاتناسب بھی بہت کم ہے۔

انھوں نے کہا کہ شوہر گھر کا ذمہ دار ہے۔ بچوں کی ساری ذمہ داری والد پر ہے۔ بیوی شادی یا نکاح کے ختم ہونے پر آزاد ہوجاتی اور آگے کی زندگی اپنی مرضی سے گذار سکتی ہے۔ اسلام میں شادی ایک معاہدہ ہے۔ ایک Contract ہے۔ نہ کہ جنم جنم کا بندھن۔

سپریم کورٹ کے چیف جسٹس آف انڈیا ٹی ایس ٹھاکرنے صحیح کہا ہیک”ہ کورٹ اور عدالت ہر مسئلہ کا حل نہیں۔ ہم یہ نہیں حکم دے سکتے کہ سارے ناجائزقبضے ختم ہوں،مرڈرس نہ ہوں، کرپشن ختم کیا جائے۔۔۔۔“اسی طرح ہم یہ بھی مطالبہ نہیں کرسکتے کہ کورٹ شوہر کو پابند کرے کہ وہ اپنی بیوی کو طلاق نہ دے اور اگر کورٹ کے آرڈر کے باوجود وہ اپنی بیوی کو تین طہور میں طلاق دے دے تو کیا اس مطلقہ عورت کا مسئلہ حل ہوگا۔ یہ سارے مسائل کیلئے اصلاح معاشرہ کی ضرورت ہے۔اور سماجی کارکنوں اور مصلحین کو میدان عمل میں ٹھوس کام کرنے کیلئے آگے آنا ہوگا۔

انھوں نے کہا کہ آج ایسے کئی تنظیمیں اور تحریک ابھر پڑی ہیں جو خود کو خواتین کے حقوق کے چیمپئن ظاہر کرناچاہتے ہیں مگرانھیں قرآن اور حدیث کا بنیادی فہم بھی نہیں ہے۔ یہ لوگ اس بات کو سمجھنے سے قاصر ہیں کہ طلاق مجبوری میں ایک احسن طریقہ ہے رشتہ کو ختم کرنے کا۔ 

آج ہندوستانی سماج جن مسائل سے دوچار ہے اسمیں سب سے اہم دختر کشی، female infanticide جہیز اور جوڑے گھوڑے کی لعنت اور گھریلو تشدد ہے۔ ۔ہندوستان میں اسوقت 40%  بیویاں شوہر اور سسرالی رشتہ داروں کی طرف سے گھریلو تشددکا شکار ہیں۔

انہوں نے سوال کیا کہ میڈیا کے ذریعہ مسلمان عورتوں کی شخصیت کو مجروح کرنے کی کیوں کوشش کی جارہی ہے۔ انھیں امظلوم و مجبورکیوں بتایاجارہا ہے۔انہوں نے بتایا کہ اسلام نے عورت کو بحیثیت ماں، بیٹی، بہن اور بیوی کے اعلیٰ مقام و مرتبہ دیا ہے،کیونکہ اسلام میں مستحکم خاندان کی بہت اہمیت ہے۔

انھوں نے مسلم خواتین سے اپیل کی کہ طلاق ثلاثہ اور شریعت سے متعلق کسی بھی قسم کے پروپگنڈے سے متأثر نہ ہوں اور مسلم آندولن و مورچہ و دیگر خاتون تنظیموں سے چوکنا رہیں،جو مسلم خواتین کوالجھانے اور گمراہ کرنے کی ایڑی چوٹی کا زور لگارہی ہیں۔

یہ تمام کوششیں درا صل یکساں سول کوڈ کے نفاذ کیلئے راہ ہموار کرنے‘کی جارہی ہے۔ اس کے لئے اسلام بیزار لبرل نام نہاد ٹولے کو خوب استعمال کیا جارہا ہے۔ مسلم پرسنل لاء میں کسی بھی قسم کی مداخلت کو ہم ہرگز برداشت نہیں کرینگے اور مسلمانوں کے تمام طبقات، جماعتیں اور ادارے، مسالک، گروہ متحدہ طور پر مسلم پرسنل لاء میں کسی بھی قسم کی مداخلت کی کوشش کی پرزور مذمت کرتے ہیں۔ اور اپنے قانونی،دستوری حقوق کے تحفظ کیلئے ہر طرح کی پر امن جدوجہد کیلئے تیار ہیں۔

انھوں نے کہا کہ ہم آر ایس ایس اور بی جے پی کی ان تمام کوششوں کی پر زور مذمت کرتے ہیں جو مسلم پرسنل لاء میں تحریف و ترمیم کرنا چاہتے ہیں یا عدالت عالیہ کو استعمال کرکے مسلم پرسنل لاء میں مداخلت کرنے کیلئے مسلسل کوشاں ہیں۔ ہم ملک کے 10 کروڑ مسلم خواتین مسلم پرسنل لاء کے تحفظ کیلئے ہر طرح کوشش کریں گے۔


Share: